Thursday, December 16, 2010

مولانا فضل الرحمن اور مولانا شیرانی

جمعیت صرف دو وزیروں کو حکومت سے علیحدہ کرکے عوام کو بےوقوف بنانا چاہتی ہے ‘ امان اللہ شادیزئی
مولانا فضل الرحمن اور مولانا شیرانی سرکاری عہدوں پربراجمان اور انکی پارٹی بلوچستان میں وزارتوں کے مزے لوٹ رہی ہے ‘نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان
کوئٹہ ۔۶۱دسمبر (پ ر)جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر سید امان اللہ شادیزئی نے اپنے ایک بیان میںکہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے اپنے دو وزیروںکو حکومت سے علیحدہ کرکے عوام کو یہ ناکام تاثردینے کی کوشش کی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے مولانا خود کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہیں اور مولانا محمد خان شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے عہدہ پر براجمان ہیں ،بلوچستان میں وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اب اس طریقہ سیاست سے پاکستان کے کروڑوں عوام کو بے وقوف نہیں بناسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی جو سالوں سے پیپلز پارٹی کی امریکن نواز پالیسی کی مکمل حامی بنی ہوئی ہے اندرون ملک و بیرون ملک موجودہ حکومت امریکہ کی مسلم اور افغان دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے اور جمعیت اس جرم میںشامل رہی ہے ایم ایم اے کے دور حکومت میں بلوچستان میں اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور انکے دور حکومت میں کوئٹہ میں شراب خانوں کا جمعہ بازار بن گیا تھا اور اب تو شہر کے تمام بڑے بڑے مقامات پر شراب خانے کھلتے جارہے ہیں ۔ امان اللہ شادیزئی نے کہا کہ جمعیت نے اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں اسمبلی میںشریعت بل پیش نہ کرسکی اور مختلف بہانے بناتی رہی ہے ۔ پشتون علاقوں میں ان کی سیاست نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور بجٹ میں یہ خطہ ان کی وجہ سے محروم رہا۔ اب جمعیت ایک طرف حکومت بلوچستان میں شامل ہے اور دوسری طرف نام نہاد حزب اختلاف کا نا کام کردار ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام اس متضاد پالیسی کے جھانسے میں نہیںآئیںگے وہ حکومت سے لطف اندوزہونے کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی کشتی میں بھی سوار ہونا چاہتے ہیں۔انہیں فوری طورپرکشمیر کمیٹی ، اسلامی نظریاتی کونسل اورحکومت بلوچستان سے علیحدہ ہوجانا چاہیئے اور حکومت کے قائم کردہ تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہونا چاہیئے اور پارٹی افغانستان اور فاٹا میں پشتونوں کے قتل عوام کے خلاف امریکن نواز پالیسیوں کے حوالے سے قوم سے معذرت کریں ۔ بلوچستان میں جماعت اسلامی ان کے سابقہ دور موجودہ پالیسی کے پیش نظر ان سے دور رہنا اپنے لئے بہتر سمجھتی ہے ۔

                                    جاری کردہ عبدالولی خان شاکر
                                شعبہ نشر و اشاعت جماعت اسلامی بلوچستان

1 comment: